طالبان کے توسیعی کاروائی سے نسلی تنازعات کے خدشات اور جنگ کے رہنماؤں کو بیداری

عطا محمد نور کو چند روز قبل مزار شریف میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اسلامک ایسوسی ایشن پارٹی)
عطا محمد نور کو چند روز قبل مزار شریف میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اسلامک ایسوسی ایشن پارٹی)
TT

طالبان کے توسیعی کاروائی سے نسلی تنازعات کے خدشات اور جنگ کے رہنماؤں کو بیداری

عطا محمد نور کو چند روز قبل مزار شریف میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اسلامک ایسوسی ایشن پارٹی)
عطا محمد نور کو چند روز قبل مزار شریف میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اسلامک ایسوسی ایشن پارٹی)
ایک طرف "طالبان" تحریک نے افغان خطے میں وسیع پیمانے پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے تو دوسری طرف دوحہ میں کل (ہفتہ) اس تحریک کی سیاسی قیادت اور صدر اشرف غنی کی انتظامیہ کے عہدیداروں سمیت کئی سیاسی شخصیات کے درمیان امن مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہوا جس میں مثبت ماحول اور دونوں اطراف کے مابین لچک پیدا ہونے کے بارے میں اطلاعات مل رہی ہیں۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس بنیاد پر طالبان کی پیشرفت نے افغان نسلی تقسیم کو بیدار کردیا ہے اور سابقہ ​​جنگجوؤں کو شمالی اور وسطی افغانستان کی طرف پشتون اکثریتی اسلام پسند تحریک کی توسیع کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے حامیوں کو متحرک اور مسلح کرنے پر بھی آمادہ کر دیا ہے جہاں آبادی مختلف نسلی مجموعہ میں منقسم ہے جیسے کہ تاجک، ازبک اور ہزارہ نسلیں ہیں اور طالبان کے خلاف ان لوگزں کے ہتھیار اٹھانے کی وجہ سے نسلی تنازعات کے دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور ملک کے جنوب اور مشرق میں "طالبان" کی پیشرفت سے پشتون پشتون تنازعات کو ہوا دینے کے خدشات بھی ہیں کیونکہ ان علاقوں میں موجودہ اختیار کا سب سے بڑا مقصد نسلی پشتونوں پر مبنی ہے لیکن یہ سب "طالبان" کے مخالفین ہیں۔(۔۔۔)

اتوار 08 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 18 جولا‏ئی 2021ء شماره نمبر [15573]