مالکی نے سب سے بڑے بلاک کے ساتھ الصدر کو گھیرے میں لے لیا ہے

بغداد میں کل ہاتھوں سے ووٹوں کی گنتی کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
بغداد میں کل ہاتھوں سے ووٹوں کی گنتی کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
TT

مالکی نے سب سے بڑے بلاک کے ساتھ الصدر کو گھیرے میں لے لیا ہے

بغداد میں کل ہاتھوں سے ووٹوں کی گنتی کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
بغداد میں کل ہاتھوں سے ووٹوں کی گنتی کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
کل اتوار کے انتخابات کے نتائج کی روشنی میں عراق ایک نئے سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ نوری مالکی کی قیادت میں قانونی ملک کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اگلی پارلیمنٹ میں بڑے بلاک  کی تشکیل کے لئے مختلف طاقتوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں جس کا عملی طور پر مطلب یہ ہوا کہ الصدر بلاک کو گھیرنا ہے جس نے اپنے نائبین کی تعداد کے لحاظ سے اپنے حریفوں پر واضح فتح حاصل کی ہے اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ اسے اگلے وزیر اعظم کے انتخاب کا کام سونپا جائے گا۔

یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب آزاد ہائی الیکٹورل کمیشن نے بغداد کے کارخ اور روسفا میں 140 اسٹیشنوں کے لیے دستی گنتی اور چھانٹ شروع کی ہے جو الیکٹرانک طور پر گنتی اور ترتیب نہیں دی گئی تھی۔

انتخابی کمیشن کے اعلان کردہ ابتدائی نتائج نے مولوی مقتدی الصدر کی نقل وحرکت کے لیے بڑی پیش رفت دکھائی ہے اور اس کے بعد شیعہ محاذ کے مقابلہ میں قانونی ملک کے اتحاد کا نمبر ہے اور اسی کے ساتھ ایران کی وفادار افواج کو نمایاں غیر مقبولیت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان میں سر فہرست ہادی العامری کی قیادت میں الفتح اتحاد ہے۔

شیعہ اور شیعہ کے درمیان تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے اگرچہ صدر کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا بلاک وہ ہے جو سب سے زیادہ ووٹوں کا فاتح ہے اور ان کے مخالف قانونی ملک کے اتحاد کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا بلاک وہ ہے جو مختلف بلاکس اور فہرستوں سے ایوان نمائندگان میں تشکیل پائے گا۔(۔۔۔)

جمعرات - 08 ربیع الاول 1443 ہجری - 14 اكتوبر 2021ء شمارہ نمبر [15661]