ایک اردنی دستاویز اور اس کے خفیہ ضمیمہ جس کے متن کو الشرق الاوسط نے شائع کیا ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دمشق کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کا حتمی مقصد شام سے ان تمام غیر ملکی افواج اور غیر ملکی جنگجوؤں کا انخلاء ہے جو 2011 کے بعد ملک میں داخل ہوئے ہیں جس میں شمالی مشرقی شام سے امریکہ اور اتحاد کا انخلاء ہے اور اردن اور عراق کی سرحدوں کے قریب امریکی التنف اڈے کا (منتشر کرنا) بھی شامل ہے اور روس کے جائز مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے شام کے بعض حصوں میں ایرانی اثر ورسوخ کو محدود کرنے کا آغاز بھی شامل ہے۔
یہ دستاویز عرب ممالک کی جانب سے دمشق کی جانب اٹھائے گئے اقدامات کی بنیاد ہے اور اس میں وزیر خارجہ فیصل مقداد کی نیویارک میں نو عرب وزراء کے ساتھ ملاقات، اردن اور شام کے سرکاری دورے اور عرب رہنماؤں اور صدر بشار الاسد کے درمیان رابطے بھی شامل ہیں۔(۔۔۔)
جمعہ - 07 ربیع الثانی 1443 ہجری - 12 نومبر 2021ء شمارہ نمبر [15689]