جرمن عدلیہ کے سامنے تشدد کا شامی ڈاکٹر

کل فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں شامی ڈاکٹر کو اپنے ملک (وسط) میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
کل فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں شامی ڈاکٹر کو اپنے ملک (وسط) میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
TT

جرمن عدلیہ کے سامنے تشدد کا شامی ڈاکٹر

کل فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں شامی ڈاکٹر کو اپنے ملک (وسط) میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
کل فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں شامی ڈاکٹر کو اپنے ملک (وسط) میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں شامی ٹارچر ڈاکٹر علا موسیٰ کے مقدمے کی سماعت کل جرمن شہر فرینکفرٹ میں شروع ہوئی ہے۔

شامی وکیل اور کارکن انور البنی نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ شام میں ایک گواہ کے خاندان کو حکومت کی انٹیلی جنس سروسز کے ارکان نے دھمکی دی ہے اور البنی نے مزید کہا کہ عناصر نے گواہ کی بہن کو دھمکی دی کہ اگر اس کے بھائی نے جرمن عدالت کے سامنے بات کی تو اسے شام میں اپنے خاندان کے ساتھ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موسیٰ کو 2020 کے جون میں فرینکفرٹ میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2011 اور 2012 کے درمیان دمشق اور حمص کے دو فوجی اسپتالوں میں کام کرتے ہوئے اس پر تشدد اور قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات  17 جمادی الآخر 1443 ہجری  - 20  جنوری  2021ء شمارہ نمبر[15759]