گروندبرگ نے یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں توسیع کرنے کا کیا عہد وپیمان

رشاد العلیمی کی سربراہی میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اجلاسوں کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (سرکاری سبا ایجنسی)
رشاد العلیمی کی سربراہی میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اجلاسوں کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (سرکاری سبا ایجنسی)
TT

گروندبرگ نے یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں توسیع کرنے کا کیا عہد وپیمان

رشاد العلیمی کی سربراہی میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اجلاسوں کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (سرکاری سبا ایجنسی)
رشاد العلیمی کی سربراہی میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اجلاسوں کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (سرکاری سبا ایجنسی)
ایک طرف یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گروندبرگ نے یمن میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی میں توسیع کا وعدہ کیا ہے اور اس کا اعلان کل کیا گیا ہے اور وہیں دوسری طرف صدارتی قیادت کونسل کے کاموں میں ایک نئی پیش رفت ہوئی ہے اور وہ سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے مشترکہ سیکیورٹی اور فوجی کمیٹی تشکیل دینا ہےجس کی قیادت تجربہ کار فوجی شخصیت ہیثم قاسم طاہر کر رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ صدارتی کمانڈ کونسل نے رشاد محمد العلیمی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے مشترکہ سیکورٹی اور ملٹری کمیٹی کے قیام کی منظوری دی ہے اور ساتھ ہی ملک میں اقتدار کی منتقلی کے اعلان کے آرٹیکل 5 کے مطابق مسلح اور سیکورٹی فورسز کی تنظیم نو بھی کی گئی ہے اور کونسل نے میجر جنرل طاہر کی سربراہی میں 59 رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

انسانی ہمدردی کی جنگ بندی کی فائل کے تناظر میں جو دو ماہ کی مدت کے اختتام کے بعد اگلے جمعرات کو ختم ہو رہی ہے گروندبرگ نے عدن سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس میں توسیع کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت نے تعز پر محاصرہ ختم کرنے اور سڑکیں کھولنے کی اپنی پابندی کی تصدیق کی ہے جیسا کہ وزیر خارجہ احمد عواد بن مبارک نے کہا ہے۔(۔۔۔)

منگل  29 شوال المعظم  1443 ہجری  - 31   اپریل   2022ء شمارہ نمبر[15890]