خادم حرمين کا رحمٰن کے مہمانوں سے خطاب: ہمیں آپ کی خدمت کے اعزاز پر فخر ہے

گزشتہ روز عازمین حج کو خانہ کعبہ کا طواف افاضہ  کرنےکے دوران دیکھا جا سکتا ہے (فوٹو: بشیر صالح)
گزشتہ روز عازمین حج کو خانہ کعبہ کا طواف افاضہ کرنےکے دوران دیکھا جا سکتا ہے (فوٹو: بشیر صالح)
TT

خادم حرمين کا رحمٰن کے مہمانوں سے خطاب: ہمیں آپ کی خدمت کے اعزاز پر فخر ہے

گزشتہ روز عازمین حج کو خانہ کعبہ کا طواف افاضہ  کرنےکے دوران دیکھا جا سکتا ہے (فوٹو: بشیر صالح)
گزشتہ روز عازمین حج کو خانہ کعبہ کا طواف افاضہ کرنےکے دوران دیکھا جا سکتا ہے (فوٹو: بشیر صالح)
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عازمین حج کی خدمت کے اعزاز پر انہیں اور ان کے ملک کو فخر ہے اور انہوں نے عید کے مبارک موقع پر ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم اللہ رب العزت کی تعریف کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں دنیا کے مختلف ممالک سے عازمین حج کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا جنہوں نے آسانی کے ساتھ اپنی عبادت مکمل کی۔

اسی طرح شاہ سلمان نے عید کے موقع پر حجاج کرام اور شہریوں سے اپنے خطاب میں سعودی عرب کی جانب سے کورونا وباء کا مقابلہ کرنے میں حاصل کی گئی شاندار کامیابی کی بھی تعریف کی ہے جس کی وجہ سے اس سال 1443 ہجری کے حج سیزن کے لئے عازمین کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جن کی تعداد اندرون وبیرون ملک سے دس لاکھ عازمین حج ہے اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کیا گیا ہے۔

دوسری طرف مقدس گھر کے زائرین نے اتوار کو تشریق کے پہلے دن کا استقبال کیا ہے جو عید الاضحی کا دوسرا دن ہے جس دن وہ رمی جمرات ادا کرتے ہیں جس کی شروعات چھوٹی سے ہوتی ہے، پھر درمیانی اور پھر بڑی اور اسے ہی عقبہ کہا جاتا ہے جبکہ منیٰ سے نکلنے کے ارادہ سے زیادہ تر عجلت میں آنے والے زائرین اپنا سامان باندھنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ ایسا بارہویں ذی الحجہ کو پیر کے دن غروب آفتاب سے پہلے رمی جمرات کے بعد کرتے ہیں جبکہ دیگر حجاج جلدی نہیں کرتے ہیں اور اسی جگہ رہتے ہیں اور رمی جمرات کے بعد روانہ ہوتے ہیں۔(۔۔۔)

اتوار  11   ذی الحجہ  1443 ہجری  - 10    جولائی   2022ء شمارہ نمبر[15930]  



سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
TT

سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)

کل پیر کے روز، سعودی عرب نے "کنگ سلمان انسانی امدادی مرکز" جے ذریعے یمن کے گورنریٹ حضرموت کے علاقے الساحل اور الوادی، الحدیدہ گورنریٹ میں الخوخہ اور گورنریٹ شبوہ میں رضوم کے علاقے بئر علی میں پانی کے کنوؤں کی کھدائی اور انہیں تیار کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سول سوسائٹی کے ایک ادارے کے ساتھ ایک مشترکہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔

مرکز میں صحت اور ماحولیات کے شعبہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ المعلم نے وضاحت کی کہ معاہدے کی رو سے حضرموت، حدیدہ اور شبوہ کے گورنریٹس میں پروجیکٹ کے علاقوں میں 8 نئے کنویں کھودے جائیں گے اور انہیں شمسی توانائی کے نظام کے ذریعے 5 میٹر بلند ٹینکوں سے جوڑا جائے گا تاکہ ہمہ وقت پانی کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حدیدہ کے علاقے الخوخہ میں ایک ٹاور ٹینک اور شبوہ کے علاقے رضوم میں ایک سطحی ٹینک تعمیر کیا جائے گا۔

المعلم نے نشاندہی کی کہ اس معاہدے میں حضرموت اور حدیدہ میں 9 پرانے کنوؤں کو بحال کر کے انہیں شمسی توانائی کے نظام سے منسلک کرتے ہوئے 5 میٹر بلند ٹینک بنائیں جائیں گے، علاوہ ازیں واٹر کارپوریشن کے پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک عملکے کے 34 افراد کو کنویں کے اجزاء اور لوازمات کی تنصیب کے عمل کے ذریعے فیلڈ کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کے امور کی تربیت دی جائے گی۔ نیز شمسی توانائی کے نظام سے 65,300 افراد براہ راست مستفید ہونگے۔

منگل-03 شعبان 1445ہجری، 13 فروری 2024، شمارہ نمبر[16513]


سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
TT

سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)

سعودی عرب نے کل یمنی حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے 250 ملین ڈالر کی منتقلی کا اعلان کیا، جو کہ سعودی قیادت کی جانب سے قانونی حکومت کی حمایت میں دی جانے والی ایک بلین ڈالر کی گرانٹ کی دوسری قسط ہے۔ یمن میں سعودی عرب کے سفیر اور یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے جنرل سپروائزر محمد آل جابر نے کل تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر یمنی حکومت کے بجٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے امداد کی دوسری قسط عدن میں یمن کے مرکزی بینک کو منتقل کر دی گئی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور "X" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "یمن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مملکت سعودیہ کا نقطہ نظر مخلصانہ یکجہتی کی ایک مثال ہے، یہ ہمارے شہریوں کی ترجیحات کے جواب میں ہے جو اپنے حالات زندگی، سلامتی، ترقی اور امن کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، نہ کہ مزید جنگ اور بحران چاہتے ہیں جو دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ان کے ایرانی حامیوں کی طرف سے پیدا کی جاری ہے۔"

پیر-02 شعبان 1445ہجری، 12 فروری 2024، شمارہ نمبر[16512]


ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
TT

ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)

رواں سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن میں 26 ارب ریال (تقریباً 7 بلین ڈالر) کے 61 خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس نمائش میں 116 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 773 نمائش کنندگان اور 441 سرکاری وفود نے شرکت کی اور اس کا تیسرا ایڈیشن 2026 میں منعقد ہونے کی امید ہے۔

نمائش کو 106 ہزار افراد نے دیکھا اور نمائش کے ایام میں 73 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں 17 صنعتی شرکت کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے گورنر انجینئر احمد بن عبدالعزیز العوہلی نے نمائش کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تقریب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی سرپرستی اور ولی عہد، وزیر اعظم اور جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل دلچسپی اور پیروی کی بدولت "اس نمائش کو یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی کہ دنیا کی بہترین دفاعی اور سیکورٹی نمائشوں میں سے ایک بنی اور یہ سعودی قیادت کی جانب سے اسے خاص اہتمام دینے کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں یہ (وژن 2030) کے مطابق فوجی خدمات اور آلات پر 50 فیصد اخراجات کو مقامی بنانے کے ضمن میں ہے۔" (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]