سعودی عرب کا ایران سے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ... اور امریکہ "ایسا خلا نہیں چھوڑے گا" جسے دوسروں کے ذریعے پُر کیا جائے

جدہ سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ترقی کی سرگرمیاں، جو کل منعقد ہوا.. فریم میں سعودی ولی عہد سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (واس)
جدہ سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ترقی کی سرگرمیاں، جو کل منعقد ہوا.. فریم میں سعودی ولی عہد سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (واس)
TT

سعودی عرب کا ایران سے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ... اور امریکہ "ایسا خلا نہیں چھوڑے گا" جسے دوسروں کے ذریعے پُر کیا جائے

جدہ سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ترقی کی سرگرمیاں، جو کل منعقد ہوا.. فریم میں سعودی ولی عہد سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (واس)
جدہ سربراہی اجلاس برائے سلامتی و ترقی کی سرگرمیاں، جو کل منعقد ہوا.. فریم میں سعودی ولی عہد سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (واس)

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی نیابت میں سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے "جدہ سربراہی اجلاس برائے سلامتی اور ترقی" کی صدارت کی، جس میں خلیجی عرب ممالک کی تعاون کونسل کے رکن ممالک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ہاشمی مملکت اردن، عرب جمہوریہ مصر اور جمہوریہ عراق کے رہنماؤں اور سربراہوں کے وفود شریک تھے۔
پرنس محمد بن سلمان نے کہا کہ "خطے کا مستقبل جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں اس کے لیے ایک ایسا وژن اپنانے کی ضرورت ہے جو سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے حصول کو ترجیح دے" اور یہ باہمی احترام پر مبنی ہو۔
 انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اس وژن کا حصہ بننے کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کرے۔ اسی ضمن میں امریکی صدر جو بائیڈن نے یقین دہانی کی کہ ان کا ملک خطے سے ایسے ہرگز نہیں جائے گا کہ "پیچھے ایسا خلا چھوڑے جسے چین، روس یا ایران پُر کریں۔"(...)

اتوار - 18 ذی الحجہ 1443ہجری - 17 جولائی 2022ء شمارہ نمبر [15937]
 



سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
TT

سعودی عرب کا 3 یمنی گورنریٹوں میں پانی کے کنویں کھودنے اور انہیں تیار کرنے کا معاہدہ

اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)
اس معاہدے پر ریاض کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں مرکز برائے آپریشنز اینڈ پروگرامز کے اسسٹنٹ جنرل سپروائزر انجینئر احمد البیز نے دستخط کیے (واس)

کل پیر کے روز، سعودی عرب نے "کنگ سلمان انسانی امدادی مرکز" جے ذریعے یمن کے گورنریٹ حضرموت کے علاقے الساحل اور الوادی، الحدیدہ گورنریٹ میں الخوخہ اور گورنریٹ شبوہ میں رضوم کے علاقے بئر علی میں پانی کے کنوؤں کی کھدائی اور انہیں تیار کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سول سوسائٹی کے ایک ادارے کے ساتھ ایک مشترکہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔

مرکز میں صحت اور ماحولیات کے شعبہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ المعلم نے وضاحت کی کہ معاہدے کی رو سے حضرموت، حدیدہ اور شبوہ کے گورنریٹس میں پروجیکٹ کے علاقوں میں 8 نئے کنویں کھودے جائیں گے اور انہیں شمسی توانائی کے نظام کے ذریعے 5 میٹر بلند ٹینکوں سے جوڑا جائے گا تاکہ ہمہ وقت پانی کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حدیدہ کے علاقے الخوخہ میں ایک ٹاور ٹینک اور شبوہ کے علاقے رضوم میں ایک سطحی ٹینک تعمیر کیا جائے گا۔

المعلم نے نشاندہی کی کہ اس معاہدے میں حضرموت اور حدیدہ میں 9 پرانے کنوؤں کو بحال کر کے انہیں شمسی توانائی کے نظام سے منسلک کرتے ہوئے 5 میٹر بلند ٹینک بنائیں جائیں گے، علاوہ ازیں واٹر کارپوریشن کے پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک عملکے کے 34 افراد کو کنویں کے اجزاء اور لوازمات کی تنصیب کے عمل کے ذریعے فیلڈ کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کے امور کی تربیت دی جائے گی۔ نیز شمسی توانائی کے نظام سے 65,300 افراد براہ راست مستفید ہونگے۔

منگل-03 شعبان 1445ہجری، 13 فروری 2024، شمارہ نمبر[16513]


سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
TT

سعودی عرب نے یمن کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ کی اپنی دوسری قسط دے دی

سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)
سعودی تعاون کے ساتھ 4 یمنی گورنریٹوں میں دیہی تعلیم تک رسائی کے منصوبے کی تنفیذ کے معاہدے پر دستخط (واس)

سعودی عرب نے کل یمنی حکومت کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے 250 ملین ڈالر کی منتقلی کا اعلان کیا، جو کہ سعودی قیادت کی جانب سے قانونی حکومت کی حمایت میں دی جانے والی ایک بلین ڈالر کی گرانٹ کی دوسری قسط ہے۔ یمن میں سعودی عرب کے سفیر اور یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے جنرل سپروائزر محمد آل جابر نے کل تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر یمنی حکومت کے بجٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے امداد کی دوسری قسط عدن میں یمن کے مرکزی بینک کو منتقل کر دی گئی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور "X" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "یمن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مملکت سعودیہ کا نقطہ نظر مخلصانہ یکجہتی کی ایک مثال ہے، یہ ہمارے شہریوں کی ترجیحات کے جواب میں ہے جو اپنے حالات زندگی، سلامتی، ترقی اور امن کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، نہ کہ مزید جنگ اور بحران چاہتے ہیں جو دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ان کے ایرانی حامیوں کی طرف سے پیدا کی جاری ہے۔"

پیر-02 شعبان 1445ہجری، 12 فروری 2024، شمارہ نمبر[16512]


ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
TT

ریاض میں "بین الاقوامی دفاعی نمائش" نے 7 ارب ڈالر کے خریداری کے معاہدے حاصل کر لیے

ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)
ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا منظر (واس)

رواں سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش کے دوسرے ایڈیشن میں 26 ارب ریال (تقریباً 7 بلین ڈالر) کے 61 خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس نمائش میں 116 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 773 نمائش کنندگان اور 441 سرکاری وفود نے شرکت کی اور اس کا تیسرا ایڈیشن 2026 میں منعقد ہونے کی امید ہے۔

نمائش کو 106 ہزار افراد نے دیکھا اور نمائش کے ایام میں 73 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں 17 صنعتی شرکت کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے گورنر انجینئر احمد بن عبدالعزیز العوہلی نے نمائش کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تقریب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی سرپرستی اور ولی عہد، وزیر اعظم اور جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل دلچسپی اور پیروی کی بدولت "اس نمائش کو یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی کہ دنیا کی بہترین دفاعی اور سیکورٹی نمائشوں میں سے ایک بنی اور یہ سعودی قیادت کی جانب سے اسے خاص اہتمام دینے کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں یہ (وژن 2030) کے مطابق فوجی خدمات اور آلات پر 50 فیصد اخراجات کو مقامی بنانے کے ضمن میں ہے۔" (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]