ترکی نے جرمنی کی جانب سے شمالی شام میں "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کے خلاف اس ممکنہ آپریشن کو مسترد کرنے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جسے انقرہ شروع کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایک پریس کانفرنس کے دوران جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیربوک کی جانب سے ترکی کے خلاف حملہ کرنے کی وارننگ کے باعث شدید تبادلہ خیال ہوا ہے جس میں جرمن وزیر خارجہ کہا ہے کہ نیا تنازعہ صرف آبادی کے لئے مزید مصائب کا باعث بنے گا اور اس عدم استحکام کا فائدہ دہشت گرد تنظیم (داعش) کو ہوگا۔
اسی سلسلہ میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود اوگلو نے جرمنی پر زور دیا ہے کہ اگر وہ داعش سے لڑنا چاہتا ہے تو وہ میدان جنگ میں اترے اور یہ بھی کہا کہ ترکی تمام دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ داعش، کردستان ورکرز پارٹی اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس سے لڑ رہا ہے جن کے حملوں کے نتیجے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران 25 ترک فوجی مارے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں شامی اور ترک شہری بھی مارے گئے ہیں۔(۔۔۔)
اتوار 03 محرم الحرام 1444 ہجری - 31 جولائی 2022ء شمارہ نمبر[15951]