موساد سے وابستہ افراد میں خواتین کی تعداد 40 فیصد ہے جبکہ دو خواتین اسرائیلی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس میں سب سے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں جو ایرانی مسئلے سے نمٹ رہی ہیں اور یہ اطلاع موساد کے نائب سربراہ کے عہدے پر ایک خاتون کی تقرری کے موقع پر سامنے آئی ہے جو ایرانی فائل کے آپریشنل پہلو کو سنبھالے گی اور یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ایک اور خاتون ہیں جو انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ (معلومات کو جمع اور تجزیہ کرنا) کے سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں جو ایرانی مسئلہ کے کام کے ایک بڑے حصے پر نگاہ رکھی ہوئیں ہیں۔
موساد نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ایسی تقرریوں کے بارے میں ایک تحریری بیان جاری کیا ہے لیکن اس نے ان دونوں عہدیداروں کے نام شائع نہیں کئے ہیں اور صرف ان کے ناموں کے پہلے حرف کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ نئے تعینات میں منتخب (ک) انٹیلی جنس میں ایران کے دفتر کی سربراہ ہیں۔(۔۔۔)
ہفتہ 22 محرم الحرام 1444ہجری - 20 اگست 2022ء شمارہ نمبر[15971]