زیادہ تر ریفائنریوں اور گوداموں میں ہڑتالوں کے جاری رہنے کی وجہ سے 3 ہفتے قبل شروع ہونے والے تیل سے ماخوذ چیزوں کے بحران اور اتوار کو ہونے والے "عظیم مارچ" کے بعد فرانس میں آج منگل کے دن عوامی سیکٹر میں ٹریڈ یونینوں کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جن میں نقل وحمل کے شعبے، سرکاری ملازمتیں، اسکول، یونیورسٹیاں، صحت، اور نجی شعبے کی کچھ بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں جیسے کہ ایوی ایشن کے لئے "ڈاسو"، آٹوموبائل انڈسٹری کے لئے "سٹیلانٹس" اور انجنوں کے لئے "سافران" اور ان کے علاوہ برقی رو پیدا کرنے والے جوہری پلانٹس بھی شامل ہیں۔
لہذا؛ فرانسیسی جس "یوم سیاہ" کا انتظار کر رہے ہیں اس کی تصویر اس طرح پیش کی جائے گی: اسٹیشنوں پر ٹرین بسوں کے سامنے دم گھٹنے والا ہجوم، پیرس میں میٹرو کی راہداریوں میں، دارالحکومت اور بڑے شہروں میں ریلیاں، کام کی جگہوں تک رسائی میں مشکلات، غیر حاضری سرکاری محکموں کے ملازمین کی تعداد، اور بنیادی خدمات کے محکموں میں رکاوٹیں جو ہائیڈرو کاربن میں خلل کا باعث بنتی ہیں اور بہت سی دیگر تفصیلات ہیں جو صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت کو درپیش بحران کی گہرائی کی نشاندہی کرتی ہیں۔(۔۔۔)
منگل 23 ربیع الاول 1444ہجری - 18 اکتوبر 2022ء شمارہ نمبر[16030]