امریکی ایوان نمائندگان نے "بشار الاسد کی جانب سے زلزلے کے استحصال" پر مذمتی بل کی منظوری دے دی

کیپیٹل میں ایوان کے اسپیکر کیون میک کارتھی (رائٹرز)
کیپیٹل میں ایوان کے اسپیکر کیون میک کارتھی (رائٹرز)
TT

امریکی ایوان نمائندگان نے "بشار الاسد کی جانب سے زلزلے کے استحصال" پر مذمتی بل کی منظوری دے دی

کیپیٹل میں ایوان کے اسپیکر کیون میک کارتھی (رائٹرز)
کیپیٹل میں ایوان کے اسپیکر کیون میک کارتھی (رائٹرز)
         امریکی ایوان نمائندگان نے 414 اراکین کی اکثریت اور صرف دو نمائندوں کی مخالفت کے ساتھ ایک مسودہ قرارداد کی منظوری دی ہے، جس میں "شام میں زلزلہ کی تباہی سے فائدہ اٹھانے، بین الاقوامی دباؤ اور احتساب سے بچنے کے لیے اسد حکومت کی کوششوں اور اقوام متحدہ کو سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے امداد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی ہے۔"
قرارداد میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ "(سیزر کے قانون) کے نفاذ کے ذریعے شامی عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں" اور بین الاقوامی برادری سے "(وائٹ ہیلمٹ) کی بہادرانہ امدادی کاوششوں کی حمایت کرنے کا مطالبہ کریں۔ اسی طرح امریکی انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ "شام اور ترکی کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے اور امداد کی فراہمی کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کرنا جاری رکھیں" اور "ایک نگران طریقہ کار کے لیے فریم ورک مرتب کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی امداد اسد حکومت تک نہ پہنچے۔"
اس فیصلے کے روح رواں ریپبلکن نمائندے جو ولسن نے اس کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا: "جس چیز نے اس تباہی کو مزید بدتر بنایا وہ نہ صرف آمر اسد کا انسانی امداد چوری کرنا ہے بلکہ اس نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں پر کم از کم 10 بار بمباری بھی جاری رکھنا ہے۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسی ویڈیو ٹیپس موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ "اسد حکومت کے فوجی امداد چوری کر رہے تھے۔" (...)

بدھ - 8 شعبان 1444 ہجری - 01 مارچ 2023ء شمارہ نمبر [16164]