"نیٹ فلکس Netflix" کی جانب سے 100 ممالک میں اکاؤنٹ کے پاس ورڈ شیئر کرنے پر اضافی فیس عائد

"نیٹ فلکس Netflix" کی جانب سے 100 ممالک میں اکاؤنٹ کے پاس ورڈ شیئر کرنے پر اضافی فیس عائد
TT

"نیٹ فلکس Netflix" کی جانب سے 100 ممالک میں اکاؤنٹ کے پاس ورڈ شیئر کرنے پر اضافی فیس عائد

"نیٹ فلکس Netflix" کی جانب سے 100 ممالک میں اکاؤنٹ کے پاس ورڈ شیئر کرنے پر اضافی فیس عائد

"نیٹ فلکس Netflix" نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ سمیت 100 سے زائد ممالک میں اپنے ایسے صارفین پر اضافی فیس ادا کرنے کو لازمی قرار دیا ہے جو اپنے اکاؤنٹس کے پاسورڈ دیگر افراد کو استعمال کے لیے فراہم کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک ہی جگہ پر رہائش پذیر نہیں ہیں۔یاد رہے کہ سٹریمنگ براڈکاسٹنگ کے میدان میں سرگرم یہ پلیٹ فارم تقریباً ایک سال سے اس نئے فارمولے کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کی جا سکے۔ جب کہ کچھ عرصہ قبل 2022 کے پہلے نصف کے دوران جب اس نے اپنے صارفین کا کچھ ڈیٹا کھو دیا تب اس نے کینیڈا سمیت کچھ ممالک پر اس کا اطلاق کیا تھا۔"نیٹ فلکس" نے گزشتہ فروری میں جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "100 ملین سے زیادہ خاندان اپنے اکاؤنٹس دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔" جو پلیٹ فارم کی "فلموں اور بڑے ٹی وی سیریلز میں سرمایہ کاری" کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔یہ اضافی فیس ممالک کے لحاظ سے مختلف ہیں، جیسا کہ مثال کے طور پر امریکی خاندانوں کو ہر ماہ تقریباً آٹھ ڈالر اضافی ادا کرنے ہوں گے تاکہ کوئی اور ان کا اکاؤنٹ استعمال کر سکے۔ جب کہ فرانس اور اسپین میں یہ فیس 6 یورو فی مہینہ اور پرتگال میں یہی فیس چار یورو تک محدود ہے۔(...)

بدھ - 4 ذی القعدہ 1444 ہجری - 24 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16248]



سعودی "انٹرٹینمنٹ" کا عربی مواد کو سپورٹ کرنے کے لیے "بگ ٹائم" فنڈ کا قیام

ترکی آل شیخ مصر میں پریس کانفرنس کے دوران (انٹرٹینمنٹ اتھارٹی)
ترکی آل شیخ مصر میں پریس کانفرنس کے دوران (انٹرٹینمنٹ اتھارٹی)
TT

سعودی "انٹرٹینمنٹ" کا عربی مواد کو سپورٹ کرنے کے لیے "بگ ٹائم" فنڈ کا قیام

ترکی آل شیخ مصر میں پریس کانفرنس کے دوران (انٹرٹینمنٹ اتھارٹی)
ترکی آل شیخ مصر میں پریس کانفرنس کے دوران (انٹرٹینمنٹ اتھارٹی)

سعودی عرب میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ترکی آل شیخ نے "بگ ٹائم" سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جو عرب دنیا کے بڑے بڑے اسٹارز کی شرکت کے ساتھ فلموں کی تیاری، تقسیم اور بنانے میں عربی مواد کے معیار کو بلند کرنے کے لیے مخصوص ہے۔

آل شیخ نے کل (جمعرات) ایک بیان میں وضاحت کی کہ "جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی" ایک مرکزی اسپانسر کے طور پر فنڈ میں حصہ ڈالے گی جب کہ وزارت ثقافت اس شعبے میں مہارت رکھنے والی کمپنیوں کے گروپ کے ساتھ شریک اسپانسر ہوگی، جس میں "صلہ اسٹوڈیو کمپنی، الوسائل، العالمیہ ، روتانا آڈیوز اینڈ ویڈیوز، پنچ مارک اور آرٹسٹک پروڈکشن پیسکوئر شامل ہیں۔"

فنڈ کا مقصد اپنے پہلے مرحلے میں سعودی، خلیجی اور عرب فلموں میں سرمایہ کاری کرنا ہے، جب کہ اس کے بعد کے مراحل میں بین الاقوامی فلموں میں تعاون شامل ہوگا۔(...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]


مصنوعی ذہانت سے عالمی سطح پر 300 ملین ملازمتوں کو خطرہ ہے... اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ساکھ کو بھی

کانفرنس کے شرکاء (الشرق الاوسط)
کانفرنس کے شرکاء (الشرق الاوسط)
TT

مصنوعی ذہانت سے عالمی سطح پر 300 ملین ملازمتوں کو خطرہ ہے... اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ساکھ کو بھی

کانفرنس کے شرکاء (الشرق الاوسط)
کانفرنس کے شرکاء (الشرق الاوسط)

تیونس میں عرب اسٹیٹس براڈکاسٹنگ یونین کے زیر اہتمام "تیسری سالانہ کانفرنس برائے عرب میڈیا پروفیشنلز" کے دوران درجنوں بین الاقوامی میڈیا اور جدید مواصلات و ٹیکنالوجی کے ماہرین نے عرب میڈیا کے شعبے اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیشت پر "مصنوعی ذہانت" کے استعمال کے پھیلاؤ کے مثبت اور منفی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

عرب سٹیٹس براڈکاسٹنگ یونین کے صدر اور سعودی ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سی ای او محمد فہد الحارثی نے "الشرق الاوسط" کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب اور بین الاقوامی دنیا میں میڈیا اور کمیونیکیشن حکام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ذرائع ابلاغ کے مواد کو "مصنوعی ذہانت" اور مواصلات کے جدید ذرائع کے ذریعے اربوں لوگوں تک بآسانی پہنچایا جا رہا ہے۔

انٹرویو کا متن حسب ذیل ہے:

*آپ کی رائے میں، عرب اسٹیٹس براڈکاسٹنگ یونین "مصنوعی ذہانت" اور  اس کے میڈیا، عوام اور معاشروں پر اثرات جائزہ لینے کے لیے ایک بہت بڑی تکنیکی میڈیا کانفرنس کے انعقاد سے کیا پیغام دے رہی ہے؟(...)

پیر-24 رجب 1445ہجری، 05 فروری 2024، شمارہ نمبر[16505]


"ادیبوں کے عجائب گھر"... عرب ثقافت میں ان کا کیا کردار ہے؟

طحہ حسین میوزیم (رامتان سینٹر)
طحہ حسین میوزیم (رامتان سینٹر)
TT

"ادیبوں کے عجائب گھر"... عرب ثقافت میں ان کا کیا کردار ہے؟

طحہ حسین میوزیم (رامتان سینٹر)
طحہ حسین میوزیم (رامتان سینٹر)

کسی ادیب یا فنکار کے لیے اس کے اپنے ملک میں میوزیم قائم کرنے کا خیال اپنے اندر ایک عمدہ اور خوبصورت معنی رکھتا ہے، جہاں تخلیقی صلاحیتوں کی علامت سمجھی جانے والی شخصیت کا گھر وطن کے لوگوں کو عزت و تکریم دینے کی سوچ اور ورثے کو بچانے کی فکر کے ساتھ علم اور سیاحت کے مرکز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی کئی بین الاقوامی مثالیں ہیں، جن میں روسی مصنف لیو ٹالسٹائی کا "یاسنیا پولیانا" میوزیم، 1925 سے لندن میں واقع "چارلس ڈکنز" میوزیم اور امریکی ریاست کنیکٹی کٹ میں امریکی مصنف مارک کا گھر شامل ہیں۔ اگرچہ عرب دنیا میں اس طرح کی مثالوں کی کمی نہیں ہے، لیکن پھر بھی تعداد کم ہے اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ عرب ثقافتی رجحان کے معیار کے سامنے ان عجائب گھروں کے کمزور پڑتے کردار اور اثر و رسوخ کو بحال اور زندہ  کیسے کیا جائے؟

اس تناظر میں "الشرق الاوسط" نے اپنی اس تحقیق میں دانشوروں اور ادیبوں کی آراء اور مصنفین کے عجائب گھروں کو زیادہ سرگرم اور اثر انگیز بنانے کے لیے ان کی تجاویز کا جائزہ لیا ہے۔

شوقی اور طحہ حسین

عرب ممالک میں مصر ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ادبی عجائب گھر موجود ہیں، جیسا کہ امیر الشعراء احمد شوقی کا میوزیم ہے، جسے "کرمہ ابن ہانی" کے نام سے جانا جاتا ہے اور عربی ادب کے سربراہ طحہ حسین کے لیے خاص "رامتان" ثقافتی مرکز، جب کہ نجیب محفوظ میوزیم اس ضمن میں نیا ہے۔ لیکن یہ میوزیم عام لوگوں پر اثر انداز ہونے سے دور کیوں نظر آتے ہیں؟ اور کیا اس حوالے سے کوئی مستقبل کے منصوبے ہیں؟

احمد شوقی میوزیم کی کیوریٹر امل محمود کہتی ہیں: "وزارت سیاحت کے ساتھ ایک پروٹوکول پر دستخط کرکے اس میوزیم کو سیاحتی نقشے پر رکھا گیا ہے، جس کا مقصد خصوصی کمپنیوں کے ذریعے اس جگہ کو فروغ دینا اور وزارت تعلیم کے ساتھ دوسرے تعاون کے پروٹوکول کے علاوہ اسے اپنے سیاحتی پروگراموں میں شامل کرنا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "میوزیم (فیس بک) پر اپنے آفیشل پیج پر یومیہ ثقافتی خدمات فراہم کرتا ہے جو امیر الشعراء کے ورثے کو متعارف کرانے سے متعلق ہے۔ میوزیم سوموار اور جمعہ کے علاوہ صبح 9:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک کھلا رہتا ہے جس کی بہت معمولی ٹکٹ ہے۔ جب کہ ہم ہر مہینے کے پہلے ہفتہ کو میوزیم کے دروازے مفت کھولتے ہیں۔ ہم تعلیمی سیزن کے دوران طلباء اور اسکالرز کا اور موسم گرما کی تعطیلات کے دوران مختلف شہریتوں کے حامل زائرین کی ایک بڑی تعداد کا خیرمقدم کرتے ہیں، اس کے علاوہ ہم بہت سی تخلیقی ورکشاپس، فنکارانہ ملاقاتیں اور شاعری کی شاموں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔"(...)

پیر-17 رجب 1445ہجری، 29 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16498]


ریاض میں تقریباً 50 مقامات کو ثقافتی ورثہ قرار دینے کے لیے "یونیسکو کا اجلاس"

عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں 167 ممالک میں پھیلے ہوئے 1,157 تاریخی مقامات شامل ہیں (ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی)
عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں 167 ممالک میں پھیلے ہوئے 1,157 تاریخی مقامات شامل ہیں (ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی)
TT

ریاض میں تقریباً 50 مقامات کو ثقافتی ورثہ قرار دینے کے لیے "یونیسکو کا اجلاس"

عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں 167 ممالک میں پھیلے ہوئے 1,157 تاریخی مقامات شامل ہیں (ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی)
عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں 167 ممالک میں پھیلے ہوئے 1,157 تاریخی مقامات شامل ہیں (ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی)

امید ہے کہ ریاض میں منعقدہ عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی "یونیسکو" کے 45ویں اجلاس کے نتیجے میں تقریباً 50 مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ کی درجہ بندی فہرست میں شامل کیا جائے گا، جن میں 37 ثقافتی مقامات، 12 قدرتی مقامات اور دو متعدد اہمیت کے حامل مقامات شامل ہیں۔

"یونیسکو" کے ڈائریکٹر جنرل آڈری ازولائی نے اشارہ کیا کہ موسمیاتی خلل عالمی ورثے کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر 10 میں سے 7 عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کو براہ راست سمندری اور ساحلی خطرات لاحق ہیں۔

عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں دنیا بھر کے 167 ممالک میں پھیلے ہوئے 1,157 تاریخی مقامات شامل ہیں، جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں پہلے نمبر پر قدرتی مقامات، جیسے جنگلات اور نخلستانوں، دوسرے نمبر پر انسانی تخلیقی مقامات، جیسے ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے اہم دیہات اور محلات، اور تیسرے نمبر پر ایسی سائٹیں جو دونوں کا سنگم ہیں۔

سعودی عرب کی میزبانی میں اس اجلاس کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے کردار کو فروغ دینے اور اس شعبے میں ماہرین کی ایک امید افزا نسل کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے ورثے کے موضوعات اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

جمعرات-29 صفر 1445ہجری، 14 ستمبر 2023، شمارہ نمبر[16361]


بڑے پیمانے پر تباہی کا ایک ہتھیار بھوک ہے: جان زیگلر

جان زیگلر
جان زیگلر
TT

بڑے پیمانے پر تباہی کا ایک ہتھیار بھوک ہے: جان زیگلر

جان زیگلر
جان زیگلر

1934ء میں پیدا ہونے والے جان زیگلر کا شمار ہمارے عہد کے باضمیر مفکروں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک ہی وقت میں ایک فلسفی، سیاسی عہدیدار اور سوئس نائب ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ ایک بڑے عالمی ذمہ دار بھی ہیں کیونکہ آپ آٹھ سال (2000-2008) تک غذائیت پر اقوام متحدہ کے عالمی نمائندے رہے۔ اب آپ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی مشاورتی کمیٹی کے نائب سربراہ ہیں۔ ان کی کئی قابل ذکر کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں، جن میں "سرمایہ داری کی سیاہ کتاب"، "دنیا کی بھوک نے میرے بیٹے کو سمجھا دیا"، "دنیا کے نئے آقا اور ان کا مقابلہ کرنے والے"، "شرم کی سلطنت" (یعنی مغربی سرمایہ داری کی سلطنت اور کثیر القومی و بین البراعظمی کمپنیاں جو جنوب کے لوگوں کو بھوکا مارتی ہیں اور ان کے ملکوں پر قرضوں کا بوجھ ڈالتی ہیں اور انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہیں)، "انسان کا خوراک کا حق"، "دوسرے مغرب سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟"، "بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار: دنیا میں بھوک کا جغرافیہ" اور پھر "میر چھوٹی بیٹی کو سرمایہ داری کی وضاحت" وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادی کتب کا مجموعہ ہیں جو وحشیانہ سرمایہ داری کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں اور مجرمانہ بھوک کے نقشے کو واضح کرتی ہیں جو اس وقت دنیا کو تباہ کر رہی ہے۔ (...)

جمعرات-01 صفر 1445ہجری، 17 اگست 2023، شمارہ نمبر[16333]


عالمی ادب میلان کنڈیرا سے محروم ہو گیا

میلان کنڈیرا (اے-ایف-پی)
میلان کنڈیرا (اے-ایف-پی)
TT

عالمی ادب میلان کنڈیرا سے محروم ہو گیا

میلان کنڈیرا (اے-ایف-پی)
میلان کنڈیرا (اے-ایف-پی)

عالمی ادب کے سب سے نمایاں چہروں میں سے ایک مشہور فرانسیسی-چیک مصنف میلان کنڈیرا انتقال کرگئے، جو کہ شاہکار تصنیف "ناقابلِ برداشت ہلکا پن" کے مصنف تھے۔ وہ جلاوطنی، شاعری اور ادب کے طویل سفر کے بعد پرسوں 94 برس کی عمر میں پیرس میں نمودار ہوئے۔ کنڈیرا کو جس چیز نے ممتاز کیا وہ انیسویں صدی کی ناول نگاری کے انداز سے مختلف ایک نیا اسلوب اپنانا تھا، جس کے سبب وہ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں اپنے ہم عصروں سے مختلف ادبی شخصیت بننے میں کامیاب ہوگئے۔ اور جس چیز نے انہیں یہ مقام حاصل کرنے میں مدد کی وہ ان کی وسیع فلسفیانہ ثقافت اور موسیقی کے بارے میں گہرائی سے پیشہ ورانہ معرفت تھی، جسے انہوں نے اپنی ناول نگاری میں شامل کیا۔ اس شاندار کارنامے کے نتیجے میں ان کا نام کئی سالوں تک ادب کے نوبل انعام کے امیدواروں کی فہرست میں بغیر جیتے موجود رہا۔

کنڈیرا نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بطور شاعر کیا لیکن انہیں پہچان نہ ملی، پھر انہوں نے مختصر کہانیاں لکھنے کی کوشش کی تو اپنی مختصر کہانیوں کے پہلے مجموعے "مضحکہ خیز محبت" کی اشاعت کے بعد توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ فرانس میں سکونت اختیار کرنے کے بعد، جس کی انہوں نے شہریت بھی حاصل کی، انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنی اصل زبان میں ناول لکھنے کے لیے وقف کر دیا، لیکن انھوں نے اپنا ناول "سست پن" فرانسیسی زبان میں شائع کیا۔

کنڈیرا کے مشہور ناول جنہیں عربی ابان میں ترجمہ کیا گیا ان میں "The Unbearable Lightness of Being"، "Immortality"، "Laughter and Oblivion" اور "Ignorance" شامل ہیں۔

کنڈیرا 1929 میں ایک چیک والد اور والدہ کے ہاں پیدا ہوئے، ان کے والد، لڈویک کنڈیرا، موسیقی کے ماہر اور برنو میں جانکیک یونیورسٹی آف لٹریچر اینڈ میوزک کے چانسلر تھے۔ اس نے پیانو بجانا اپنے والد سے سیکھا، اور بعد میں موسیقی، سینما اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 1952 میں گریجویشن مکمل کیا اور پھر پراگ اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں سینما کی فیکلٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر اور لیکچرر کام کیا۔ (...)

جمعرات 25 ذی الحج 1444 ہجری - 13 جولائی 2023ء شمارہ نمبر [16298]


"مصنوعی ذہانت" میڈیا کے بنیادی آلات میں سے ایک ہے اور یہ خطرہ ثابت ہو سکتی ہے: بیکی اینڈرسن

"سی این این" ابوظہبی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور براڈکاسٹر بیکی اینڈرسن (الشرق الاوسط)
"سی این این" ابوظہبی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور براڈکاسٹر بیکی اینڈرسن (الشرق الاوسط)
TT

"مصنوعی ذہانت" میڈیا کے بنیادی آلات میں سے ایک ہے اور یہ خطرہ ثابت ہو سکتی ہے: بیکی اینڈرسن

"سی این این" ابوظہبی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور براڈکاسٹر بیکی اینڈرسن (الشرق الاوسط)
"سی این این" ابوظہبی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور براڈکاسٹر بیکی اینڈرسن (الشرق الاوسط)

"سی این این" ابوظہبی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور براڈکاسٹر بیکی اینڈرسن نے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے منفی اثرات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا، لیکن دوسری جانب انہوں نے زور بھی دیا کہ یہ اس شعبہ میں ایک ضروری ٹولز ہو سکتا ہے۔

اینڈرسن، جو خطے میں امریکی عالمی نیوز چینل میں سب سے زیادہ دکھائی دینے والے چہروں میں سے ایک ہیں، نے "الشرق الاوسط" کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا: "آج میڈیا کے شعبے کو ان تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا جن کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، جیسے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز وغیرہ۔" انہوں نے مزید کہا: "درحقیقت، نیوز رومز تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے اوپن سورس ڈیجیٹل اینالیٹکس ٹولز کا استعمال کرکے اس نقطہ نظر کو اپنا رہے ہیں اور اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اب یہ ممکن ہے کہ کسی جگہ پر موجود (ٹیلی گراف) کے کھمبے کی تصویر لے کر ہمارے ساتھی نیوز روم میں ہمارے پاس دستیاب ٹولز کو استعمال کر کے اس کی صحیح جگہ کا تعین کر سکتے ہیں۔"

اینڈرسن نے وضاحت کی کہ ان کے پاس خصوصی عملہ ہے جو ویڈیوز کا تجزیہ کر سکتا ہے اور ان کی حقیقت اور ان میں موجود معلومات کی درستگی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے ڈیجیٹل تجزیے کی اہمیت اس کی دستیاب معلومات اور گمراہ کن معلومات کی بڑی مقدار کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے ہوتی ہے جس سے نمٹنا مشکل ہے، اور یہی اسے میڈیا کی دنیا میں معلومات کی تصدیق اور تجزیہ کرنے کا ایک بنیادی ذریعہ بناتا ہے۔ (...)

پیر - 16 ذوالقعدہ 1444 ہجری - 05 جون 2023ء شمارہ نمبر [16260]


لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کی جانب سے مدینہ منورہ کتاب میلے کا افتتاح

لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کی جانب سے مدینہ منورہ کتاب میلے کا افتتاح
TT

لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کی جانب سے مدینہ منورہ کتاب میلے کا افتتاح

لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کی جانب سے مدینہ منورہ کتاب میلے کا افتتاح

آج لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی نے مملکت سعودی عرب سے اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے نامور مصنفوں، ادیبوں، شعراء اور دانشورں کے علاوہ تقریباً 300 مقامی، عرب اور بین الاقوامی پبلشرز کی موجودگی میں کنگ سلمان انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر میں مدینہ کتاب میلہ 2023 کا افتتاح کیا۔

لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علوان نے تصدیق کی کہ "اتھارٹی "کتاب میلوں" کے اقدام کے ذریعے "سعودی عرب 2030" ویژن اور قومی ثقافتی حکمت عملی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ثقافت کو کسی بھی فرد کے لیے ایک طرز زندگی بناتے ہوئے ملکی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈال کر مملکت کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑھا رہا ہے۔"

انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میلے کے پہلے ایڈیشن میں زائرین کے اطمینان، ان کی تعداد، کتابوں کی فروخت اور میلے کے علمی اثرات کے مثبت تناسب نے مدینہ منورہ کتاب میلے کے دوسرے ایڈیشن کے انعقاد کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔ جب کہ یہ کتاب میلہ ایک ایسے علاقے میں منعقد کیا جا رہا ہے جو ثقافت، فکر اور تہذیبی ورثے کا ایک مینار تھا اور اب بھی ہے۔ (...)

جمعہ - 29 شوال 1444 ہجری - 19 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16243]


ایک نئے ترمیم شدہ ایڈیشن میں الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک رات) کا اجراء

ایک نئے ترمیم شدہ ایڈیشن میں الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک رات) کا اجراء
TT

ایک نئے ترمیم شدہ ایڈیشن میں الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک رات) کا اجراء

ایک نئے ترمیم شدہ ایڈیشن میں الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک رات) کا اجراء

عراقی دار المدیٰ پبلشرز نے "ایک ہزار اور ایک راتیں" کا ایک نیا ترمیم شدہ ایڈیشن جاری کیا ہے، جس کی تحقیق، تبصرہ اور مقدمہ عراقی عالم محسن مہدی نے پیش کیا، جنہیں ایک نامعلوم کاپی حاصل کرنے میں بیس سال سے زیادہ کا عرصہ لگا یہاں تک کہ انہوں نے اسے (پہلے اصلی عربی نسخے سے ایک ہزار اور ایک راتیں) کے عنوان کے تحت اسے مکمل کیا۔

محقق کی جانب سے لکھے گئے جامع مقدمے میں کتاب کے مخطوطات کی تحقیق اور مشاہدے کے سفر، مطبوعہ نسخوں کے تنقیدی جائزے، کتاب کی زبان، قلمی نسخے اور ان کی ترتیب کے علاوہ متن کے حاشیے پر لکھی گئی علامتوں کی سیر حاصل وضاحت کی گئی ہے۔

انہوں نے اپنے کام کا آغاز الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک رات) کے قدیم ترین ایڈیشن سے کیا جو کلکتہ ایڈیشن ہے، اسے شیخ شیروانی الیمانی نے 1814-1818 کے درمیان دو حصوں میں شائع کیا تھا اور اس کا عنوان تھا، "حکایات مائہ لیلہ من الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک راتوں سے ایک سو راتوں کی کہانیاں)" تاہم، شیروانی نے اس کتاب کی اشاعت میں اعتماد کئے گئے نسخوں کی شناخت کا ذکر نہیں کیا۔اسی طرح، کتاب کے دیگر ایڈیشنوں میں اصل کتاب کا کوئی سراغ نہیں ملتا جس پر اعتماد کیا گیا تھا۔(...)


حائل میں حاتم الطائی کی یاد  میں جشن

حائل شہر حاتم الطائی کی تکریم کر رہا ہے (واس)
حائل شہر حاتم الطائی کی تکریم کر رہا ہے (واس)
TT

حائل میں حاتم الطائی کی یاد  میں جشن

حائل شہر حاتم الطائی کی تکریم کر رہا ہے (واس)
حائل شہر حاتم الطائی کی تکریم کر رہا ہے (واس)

آئندہ جمعہ کے روز سعودی وزارت ثقافت ملک کے شمال میں واقع شہر حائل میں "الطائی کی مہمان نوازی" کے عنوان کے تحت ایک میلے کا اہتمام کر رہی ہے، جو کہ اس شہر کے فرزندے اعزاز میں یے جو عربوں میں سخاوت کی ایک مثال اور تاریخ کے نمایاں ترین شاعروں میں سے ایک ہیں۔
وزارت ثقافت حاتم الطائی کی شخصیت، ان کی اچھی اقدار، عرب شاعری میں ان کے لازوال کارناموں اور ان کے ثقافتی مقام کا جشن منا رہی ہے۔ جب کہ اس میلے میں ثقافتی سرگرمیوں اور تقریبات کا ایک پیکج شامل ہے جو شاعر کی سوانح حیات اور ان کے مشہور دیوانوں کو مجسم کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں خطے کی ثقافت کو بیان کرے گا۔
حاتم الطائی، جن کا انتقال 605ء میں ہوا، ان کا شمار عرب کے ایسے ممتاز شاعروں میں ہوتا ہے جو دنیا بھر میں بطور شاعر، گھڑ سوار اور سخی مشہور ہوئے، آپ کا مکمل نام حاتم بن عبداللہ بن سعد بن الطائی ہے، جو نجد کے شمال میں جبل طائی – موجودہ حائل – کے علاقے میں اسلام سے قبل سخاوت کی ایک مثال تھے، آپ کا شمار عرب کی سخی ترین شخصیت کے طور پر ہوتا ہے۔

پیر - 11 شوال 1444 ہجری - 01 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16225]