روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خام قیمتوں میں حالیہ کمی کے سلسلہ میں تیل کی فراہمی اور مطالبہ پر "کورونا" کے اثرات سے متعلق ساری ذمہ داری "اوپیک +" معاہدہ سے سعودی عرب کے نکلنے پر ڈال دی ہے اور سعودی وزارت توانائی نے ایک بیان میں ان الزامات کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ روسی فریق کی طرف سے جو کچھ دعوے کئے گئے ہیں وہ سب غلط اور سراسر حق کے خلاف ہے اور اس بات کی بھی تاکید ہوئی ہے کہ مملکت کی پالیسی مارکیٹ اور اس کے استحکام کو متوازن کرنے کے لئے کام کرتی ہے اور اسی طرح تیل پیدا کرنے والی فریق اور صارفین کے مفادات کی خدمت کی جا سکتی ہے۔(۔۔۔)
اتوار 12 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 05 اپریل 2020ء شماره نمبر [15104]