امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن قانون سازوں نے "دشمنوں کو روکنا اور دفاع کو مضبوط کرنا" کے عنوان سے ایک بل پیش کیا ہے جس میں ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے کے ممالک کے دفاع کو مربوط کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور بل میں امریکی محکمہ دفاع کو عراق، اسرائیل، اردن، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ کارروائی اور ہم آہنگی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ خطے کو ایرانی جارحیت سے بچانے کے لیے دفاعی، میزائلی اور فضائی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے ایک نقطہ نظر اور دفاعی ڈیزائن تیار کیا جا سکے اور یہ سارے وہ حربے ہیں جو تہران کی حمایت یافتہ انتہا پسند گروپ استعمال کرتے ہیں اور یاد رہے کہ یہ ساری تفصیلات منصوبے کے متن سے لی گئیں ہیں۔
اس منصوبے میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) سے مطالبہ کیا گیا ہس کہ وہ اس کی منظوری کے 180 دن بعد کانگریس کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے جس میں درج ذیل تین نکات پر مبنی حکمت عملی شامل ہو: پہلا، "کروز" میزائلوں کے خطرے، مذکورہ ممالک پر ایران اور اس سے منسلک گروپوں کے بیلسٹک میزائل، ہوائی ڈرون اور میزائل حملوں کا اندازہ کیا جائے۔ دوم، ان حملوں کے خلاف خبردار کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں کی تفصیل بتائی جائے۔(۔۔۔)
ہفتہ 12 ذی القعدہ 1443 ہجری - 11 جون 2022ء شمارہ نمبر[15901]