تہران اندرونی مظاہروں کو حرکت دینے کا الزام باہر پر لگا رہا ہے

جمعہ کو تہران یونیورسٹی میں طالبات کے احتجاج کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ٹویٹر)
جمعہ کو تہران یونیورسٹی میں طالبات کے احتجاج کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ٹویٹر)
TT

تہران اندرونی مظاہروں کو حرکت دینے کا الزام باہر پر لگا رہا ہے

جمعہ کو تہران یونیورسٹی میں طالبات کے احتجاج کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ٹویٹر)
جمعہ کو تہران یونیورسٹی میں طالبات کے احتجاج کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ٹویٹر)
کل جمعہ کے دن ایرانی حکام نے بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں داخلی تحریکوں اور مظاہروں کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے کے سلسلہ میں اپنے الزام پر قائم رہنے پر اصرار کیا ہے اور یہ وہ مظاہرات ہیں جو 16 ستمبر کے بعد سے تھم نہیں رہے ہیں۔

جبکہ مقامی میڈیا نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنئی کے ٹیلی ویژن بیانات کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ آج ایک پودا تھا جو ایک مضبوط درخت بن گیا ہے اور جو بھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا سوچتا ہے وہ غلط ہے اور تہران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی صورت حال کے بارے میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیانات سیاسی اور مداخلت کرنے والے الزامات اور تشدد کی حوصلہ افزائی اور قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

میکرون نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہے اور ان خواتین اور نوجوانوں کی تعریف کیا ہے جو تقریباً ایک ماہ سے مظاہرے کر رہے ہیں اور اسی طرح انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فرانس ایرانی حکام کی طرف سے جبر کی مذمت کرتا ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 20 ربیع الاول 1444ہجری -  14 اکتوبر   2022ء شمارہ نمبر[16027]