امریکہ کا "ٹک ٹاک" پر پابندی کے اقدام پر چین کا احتجاج

یورپی پارلیمنٹ نے "سیکیورٹی وجوہات" کی بنا پر اپنے ملازمین کے لیے اس کے استعمال پر پابندی لگا دی

سیل فون پر "ٹک ٹوک" ایپلی کیشن (اے پی)
سیل فون پر "ٹک ٹوک" ایپلی کیشن (اے پی)
TT

امریکہ کا "ٹک ٹاک" پر پابندی کے اقدام پر چین کا احتجاج

سیل فون پر "ٹک ٹوک" ایپلی کیشن (اے پی)
سیل فون پر "ٹک ٹوک" ایپلی کیشن (اے پی)
چین نے سرکاری موبائل فونز پر چینی سوشل میڈیا ایپ "ٹک ٹاک" کے استعمال پر پابندی کے امریکی اقدام پر احتجاج کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینف نے کل منگل کے روز کہا: "امریکی حکومت کو مارکیٹ اکانومی اور منصفانہ مقابلہ بازی کے اصولوں کا دل سے احترام کرنا چاہیے۔"
نینف نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو "متعلقہ اداروں پر بلا جواز دباؤ ختم کرنا چاہیے اور پوری دنیا کی کمپنیوں کے لیے ایک کھلا، منصفانہ اور غیر امتیازی ماحول پیدا کرنا چاہیے۔"
جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ سرکاری ایجنسیوں کے پاس 30 دن ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ موبائل فون اور دیگر آلات پر الیکٹرانک ایپلیکیشن کا استعمال نہ ہو۔ (...)

بدھ - 8 شعبان 1444 ہجری - 01 مارچ 2023ء شمارہ نمبر [16164]



ہم نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر 5 حملے کیے ہیں: امریکی فوج

واشنگٹن نے یمن کے ان علاقوں پر بمباری کی جو اس کے بقول خطے میں امریکی اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں (آرکائیو - اے پی)
واشنگٹن نے یمن کے ان علاقوں پر بمباری کی جو اس کے بقول خطے میں امریکی اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں (آرکائیو - اے پی)
TT

ہم نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر 5 حملے کیے ہیں: امریکی فوج

واشنگٹن نے یمن کے ان علاقوں پر بمباری کی جو اس کے بقول خطے میں امریکی اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں (آرکائیو - اے پی)
واشنگٹن نے یمن کے ان علاقوں پر بمباری کی جو اس کے بقول خطے میں امریکی اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں (آرکائیو - اے پی)

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل اتوار کے روز کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنے دفاع میں یمن کے ان علاقوں میں 5 حملے کیے ہیں جو ایران کے اتحادی حوثی گروپ کے زیر کنٹرول ہیں۔

"عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کے مطابق حوثیوں کے تباہ شدہ اہداف میں ایک آبدوز، دو ڈرون کشتیاں اور تین کروز میزائل شامل تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 23 ​​اکتوبر سے حوثیوں کے حملوں کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حوثیوں نے ڈرون آبدوز کا استعمال کیا ہے۔

امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ اس نے جن اہداف پر بمباری کی ہے وہ خطے میں امریکی بحری جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے "خطرے" کا باعث تھے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور برطانیہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر براہ راست بار بار حملے کر رہے ہیں جس کا مقصد اس گروپ کی بحیرہ احمر میں نقل و حرکت اور عالمی تجارت کو نقصان پہنچانے والی خطرناک صلاحیت میں خلل ڈالنا اور اسے کمزور کرنا ہے۔

حوثی باغی بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں بحری جہازوں پر حملے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے جواب میں اسرائیلی جہازوں پر یا وہ جہاز جو اسرائیل کی جانب جا رہے ہوں ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]