میڈیاء کے تمام ذمہ دار دیکھنے والوں، سننے والوں اور پڑھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا راستہ تلاش کرتے رہتے ہیں اور یہی معاملہ سوشل میڈیاء کا بھی ہے اور یہ سب کے سب اس فارمولہ پر چلتے ہیں تاکہ ہر کوئی ان کی بات یا ان کی پیش کردہ چیزوں کو پسند کرے اور ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔
اس میدان میں تمام لوگ ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اور سب اس جنگ میں ہیں کہ دوسرے لوگ ان سے آگے نہ نکل سکیں۔ یہیں سے ہم ان جذبات واحساسات اور ان عجب وغریب حالات کو سمجھ سکتے ہیں جنہیں بعض پروگرام پیش کرتے ہیں جیسے کہ "ٹوک شو” پروگارم ہے اور اسی طرح پروگرام میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی غیبت اور ان کے خلاف ماحول بھی تیار کیا جاتا ہے۔
یہ آواز اور ذمہ دار کا چیلنج یا وزیر یا خود ریاستہائے متحدہ دیکھنے والیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے یا صرف واہ واہ حاصل کرنے پر اکتفاء نہیں کرتے ہیں بلکہ پورا اسٹوڈیو ہی سرکس کا ایک میدان یا عجیب وغریب چیز دکھانے کا ایک ڈرامہ گھر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور انہیں طریقوں سے واہ واہ حاصل کی جاتی ہے۔(۔۔۔)
آج ہمارے پاس انسٹگرام، اسنیبشاٹ، یوٹیوب اور ٹویٹر کے بہت سے مرد وخواتین ممتاز اداکار ہیں جو ہر دن زیادہ سے زیادہ دیکھنے والے اور لائک کرنے والے مرد وخواتین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے عجیب وغریب اور چٹپٹی چیزیں نشر کرتے رہتے ہیں۔
یہ ایک جنون پر مبنی مقابلہ ہے جس کا نقصان بہت زیادہ ہے بلکہ یہ کہیں یہ بھیجنے والے، جس کی طرف بھیجا جارہا ہے اور جو ان دونوں فریق کے مابین ہیں ان سب کے لئے سم قاتل ہے۔
سیٹلائٹ اور میگزین کی دنیا میں حکومت کی طرف سے بعض چیزوں کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے اور خاص طور پر اس کی اہمیت اس وقت بہت زیادہ ہو جاتی ہے جب سیٹلائٹ کے مالک مشاہدین کو اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے ریڈ لائن کراس کر جاتے ہیں لیکن سوشل میڈیاء کے ان ہزاروں پروگرام کا کیا کیا جائے؟ اس جنون کو کون کنٹرول کرے؟ کیسے انٹرنیٹ کے نئے ڈیلرز اور شہرت چاہنے والے بیمار لوگوں کے اعلانات اور شہرت کی ہوس پر لگام لگایا جا سکے؟
یہ دنیا تو بغیر قانون کے آزاد ہے اور یہ پاگل لوگوں اور جذبات واحساسات سے خالی لوگوں کا کیمپ ہے۔
جمعہ – 30 محرم 1439 ہجری – 20 اكتوبر 2017ء شمارہ نمبر: (14206)